Showing posts with label حصّہ 2. Show all posts
Showing posts with label حصّہ 2. Show all posts

Saturday, June 12, 2010

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا

Share
مارچ 1907ء

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا ، عام دیدار یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا

گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

کبھی جو آوارہ جنوں تھے ، وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہو گا

سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا ، پھر استوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے ، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

کیا مرا تذکرہ جوساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں
تو پیر میخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے ، خوار ہو گا

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جوشاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا

سفینہ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا

چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

جو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایا
یہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہو گا

کہا جوقمری سے میں نے اک دن ، یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
توغنچے کہنے لگے ، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہو گا

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں ، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

یہ رسم بزم فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبش نظر بھی
رہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہو گا

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگی آہ میری ، نفس مرا شعلہ بار ہو گا

نہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کا
تو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہو گا

نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہو گا


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

مثال پرتو مے ، طوف جام کرتے ہیں

Share
مثال پرتو مے ، طوف جام کرتے ہیں
یہی نماز ادا صبح و شام کرتے ہیں

خصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تری
شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں

نیا جہاں کوئی اے شمع ڈھونڈیے کہ یہاں
ستم کش تپش ناتمام کرتے ہیں

بھلی ہے ہم نفسو اس چمن میں خاموشی
کہ خوشنوائوں کو پابند دام کرتے ہیں

غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کی
حلال چیز کو گویا حرام کرتے ہیں

بھلا نبھے گی تری ہم سے کیونکر اے واعظ!
کہ ہم تو رسم محبت کو عام کرتے ہیں

الہی سحر ہے پیران خرقہ پوش میں کیا!
کہ اک نظر سے جوانوں کو رام کرتے ہیں

میں ان کی محفل عشرت سے کانپ جاتا ہوں
جو گھر کو پھونک کے دنیا میں نام کرتے ہیں

ہرے رہو وطن مازنی کے میدانو!
جہاز پر سے تمھیں ہم سلام کرتے ہیں

جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبال
بلا کے دیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

یوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے

Share
یوں تو اے بزم جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے
اک ذرا افسردگی تیرے تماشائوں میں تھی

پا گئی آسودگی کوئے محبت میں وہ خاک
مدتوں آوارہ جو حکمت کے صحرائوں میں تھی

کس قدر اے مے! تجھے رسم حجاب آئی پسند
پردہ انگور سے نکلی تو مینائوں میں تھی

حسن کی تاثیر پر غالب نہ آ سکتا تھا علم
اتنی نادانی جہاں کے سارے دانائوں میں تھی

میں نے اے اقبال یورپ میں اسے ڈھونڈا عبث
بات جو ہندوستاں کے ماہ سیمائوں میں تھی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں ، شرارے میں

Share
چمک تیری عیاں بجلی میں ، آتش میں ، شرارے میں
جھلک تیری ہویدا چاند میں ،سورج میں ، تارے میں

بلندی آسمانوں میں ، زمینوں میں تری پستی
روانی بحر میں ، افتادگی تیری کنارے میں

شریعت کیوں گریباں گیر ہو ذوق تکلم کی
چھپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے میں

جو ہے بیدار انساں میں وہ گہری نیند سوتا ہے
شجر میں ، پھول میں ، حیواں میں ، پتھر میں ، ستارے میں

مجھے پھونکا ہے سوز قطرۂ اشک محبت نے
غضب کی آگ تھی پانی کے چھوٹے سے شرارے میں

نہیں جنس ثواب آخرت کی آرزو مجھ کو
وہ سوداگر ہوں ، میں نے نفع دیکھا ہے خسارے میں

سکوں نا آشنا رہنا اسے سامان ہستی ہے
تڑپ کس دل کی یا رب چھپ کے آ بیٹھی ہے پارے میں

صدائے لن ترانی سن کے اے اقبال میں چپ ہوں
تقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فرقت کے مارے میں


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا

Share
زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مری خموشی نہیں ہے ، گویا مزار ہے حرف آرزو کا
 
جو موج دریا لگی یہ کہنے ، سفر سے قائم ہے شان میری
گہر یہ بولا صدف نشینی ہے مجھ کو سامان آبرو کا
 
نہ ہو طبیعت ہی جن کی قابل ، وہ تربیت سے نہیں سنورتے
ہوا نہ سرسبز رہ کے پانی میں عکس سرو کنار جو کا
 
کوئی دل ایسا نظر نہ آیا نہ جس میں خوابیدہ ہو تمنا
الہی تیرا جہان کیا ہے نگار خانہ ہے آرزو کا
 
کھلا یہ مر کر کہ زندگی اپنی تھی طلسم ہوس سراپا
جسے سمجھتے تھے جسم خاکی ، غبار تھا کوئے آرزو کا
 
اگر کوئی شے نہیں ہے پنہاں تو کیوں سراپا تلاش ہوں میں
نگہ کو نظارے کی تمنا ہے، دل کو سودا ہے جستجو کا
 
چمن میں گلچیں سے غنچہ کہتا تھا ، اتنا بیدرد کیوں ہے انساں
تری نگاہوں میں ہے تبسم شکستہ ہونا مرے سبو کا

ریاض ہستی کے ذرے ذرے سے ہے محبت کا جلوہ پیدا
حقیقت گل کو تو جو سمجھے تو یہ بھی پیماں ہے رنگ و بو کا

تمام مضموں مرے پرانے ، کلام میرا خطا سراپا
ہنر کوئی دیکھتا ہے مجھ میں تو عیب ہے میرے عیب جو کا

سپاس شرط ادب ہے ورنہ کرم ترا ہے ستم سے بڑھ کر
ذرا سا اک دل دیا ہے ، وہ بھی فریب خوردہ ہے آرزو کا

کمال وحدت عیاں ہے ایسا کہ نوک نشتر سے تو جو چھیڑے
یقیں ہے مجھ کو گرے رگ گل سے قطرہ انسان کے لہو کا

گیا ہے تقلید کا زمانہ ، مجاز رخت سفر اٹھائے
ہوئی حقیقت ہی جب نمایاں تو کس کو یارا ہے گفتگو کا

جو گھر سے اقبال دور ہوں میں ، تو ہوں نہ محزوں عزیز میرے
مثال گوہر وطن کی فرقت کمال ہے میری آبرو کا

 
شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

الہی عقل خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سکھا دے

Share
الہی عقل خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سکھا دے
 اسے ہے سودائے بخیہ کاری ، مجھے سر پیرہن نہیں ہے

ملا محبت کا سوز مجھ کو تو بولے صبح ازل فرشتے
 مثال شمع مزار ہے تو ، تری کوئی انجمن نہیں ہے

یہاں کہاں ہم نفس میسر ، یہ دیس نا آشنا ہےاے دل!
 وہ چیز تو مانگتا ہے مجھ سے کہ زیر چرخ کہن نہیں ہے

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنایا
 بنا ہمارے حصار ملت کی اتحاد وطن نہیں ہے

کہاں کا آنا ، کہاں کا جانا ، فریب ہے امتیاز عقبی 
نمود ہر شے میں ہے ہماری ، کہیں ہمارا وطن نہیں ہے

مدیر 'مخزن' سے کوئی اقبال جا کے میرا پیام کہہ دے
  جوکام کچھ کر رہی ہیں قومیں ، انھیں مذاق سخن نہیں ہے






شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال 
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں

Share

زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں
دم ہوا کی موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھی نہیں

گل تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر
شمع بولی ، گریۂ غم کے سوا کچھ بھی نہیں

راز ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو
کھل گیا جس دم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں

زائران کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں!
 
 
شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

صقلیہ

Share
صقلیہ 
 ( جزیرہ سسلی) 

رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار 

تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی 

زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے 

اک جہان تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور
کھا گئی عصر کہن کو جن کی تیغ ناصبور 

مردہ عالم زندہ جن کی شورش قم سے ہوا
آدمی آزاد زنجیر توہم سے ہوا 

غلغلوں سے جس کے لذت گیر اب تک گوش ہے
کیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟ 

آہ اے سسلی! سمندرکی ہے تجھ سے آبرو
رہنما کی طرح اس پانی کے صحرا میں ہے تو 

زیب تیرے خال سے رخسار دریا کو رہے
تیری شمعوں سے تسلی بحر پیما کو رہے 

ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام
موج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام 

تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھا
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا 

نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہاں آباد پر 

آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریاد کی 

غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا
چن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا 

ہے ترے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں
تیرے ساحل کی خموشی میں ہے انداز بیاں 

درد اپنا مجھ سے کہہ ، میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی تو منزل تھا ، میں اس کارواں کی گرد ہوں 

رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصۂ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے 

میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتا ہوں ، اوروں کو وہاں رلواؤں گا 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
  
Related Posts with Thumbnails

عبد القادر کے نام

Share
اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں

ایک فریاد ہے مانند سپند اپنی بساط
اسی ہنگامے سے محفل تہ و بالا کر دیں

اہل محفل کو دکھا دیں اثر صیقل عشق
سنگ امروز کو آئینہ فردا کر دیں

جلوہ یوسف گم گشتہ دکھا کر ان کو
تپش آمادہ تر از خون زلیخا کر دیں

اس چمن کو سبق آئین نمو کا دے کر
قطرہ شبنم بے مایہ کو دریا کر دیں

رخت جاں بت کدۂ چیں سے اٹھا لیں اپنا
سب کو محو رخ سعدی و سلیمی کر دیں

دیکھ! یثرب میں ہوا ناقہ لیلی بیکار
قیس کو آرزوئے نو سے شناسا کر دیں

بادہ دیرینہ ہو اور گرم ہو ایسا کہ گداز
جگر شیشہ و پیمانہ و مینا کر دیں

گرم رکھتا تھا ہمیں سردی مغرب میں جو داغ
چیر کر سینہ اسے وقف تماشا کر دیں

شمع کی طرح جییں بزم گہ عالم میں
خود جلیں ، دیدہ اغیار کو بینا کر دیں

ہر چہ در دل گذرد وقف زباں دارد شمع
سوختن نیست خیالے کہ نہاں دارد شمع


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

فراق

Share
تلاش گوشۂ عزلت میں پھر رہا ہوں میں
یہاں پہاڑ کے دامن میں آ چھپا ہوں میں

شکستہ گیت میں چشموں کے دلبری ہے کمال
دعائے طفلک گفتار آزما کی مثال

ہے تخت لعل شفق پر جلوس اختر شام
بہشت دیدۂ بینا ہے حسن منظر شام

سکوت شام جدائی ہوا بہانہ مجھے
کسی کی یاد نے سکھلا دیا ترانہ مجھے

یہ کیفیت ہے مری جان ناشکیبا کی
مری مثال ہے طفل صغیر تنہا کی

اندھیری رات میں کرتا ہے وہ سرود آغاز
صدا کو اپنی سمجھتا ہے غیر کی آواز

یونہی میں دل کو پیام شکیب دیتا ہوں
شب فراق کو گویا فریب دیتا ہوں 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

پیام عشق

Share
سن اے طلب گار درد پہلو! میں ناز ہوں ، تو نیاز ہو جا
میں غزنوی سومنات دل کا ، تو سراپا ایاز ہو جا

نہیں ہے وابستہ زیر گردوں کمال شان سکندری سے
تمام ساماں ہے تیرے سینے میں ، تو بھی آئینہ ساز ہو جا

غرض ہے پیکار زندگی سے کمال پائے ہلال تیرا
جہاں کا فرض قدیم ہے تو ، ادا مثال نماز ہو جا

نہ ہو قناعت شعار گلچیں! اسی سے قائم ہے شان تیری
وفور گل ہے اگر چمن میں تو اور دامن دراز ہو جا

گئے وہ ایام ، اب زمانہ نہیں ہے صحرانوردیوں کا
جہاں میں مانند شمع سوزاں میان محفل گداز ہو جا

وجود افراد کا مجازی ہے ، ہستی قوم ہے حقیقی
فدا ہو ملت پہ یعنی آتش زن طلسم مجاز ہو جا

یہ ہند کے فرقہ ساز اقبال آزری کر رہے ہیں گویا
بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبار راہ حجاز ہو جا 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

تنہائی

Share
نہائی شب میں ہے حزیں کیا
انجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا

یہ رفعت آسمان خاموش
خوابیدہ زمیں ، جہان خاموش

یہ چاند ، یہ دشت و در ، یہ کہسار
فطرت ہے تمام نسترن زار

موتی خوش رنگ ، پیارے پیارے
یعنی ترے آنسوئوں کے تارے

کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل!
قدرت تری ہم نفس ہے اے دل!


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

ایک شام

Share
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی

وادی کے نوا فروش خاموش
کہسار کے سبز پوش خاموش

فطرت بے ہوش ہو گئی ہے
آغوش میں شب کے سو گئی ہے

کچھ ایسا سکوت کا فسوں ہے
نیکر کا خرام بھی سکوں ہے

تاروں کا خموش کارواں ہے
یہ قافلہ بے درا رواں ہے

خاموش ہیں کوہ و دشت و دریا
قدرت ہے مراقبے میں گویا

اے دل! تو بھی خموش ہو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

جلوۂ حسن

Share
جلوہ حسن کہ ہے جس سے تمنا بے تاب
پالتا ہے جسے آغوش تخیل میں شباب

ابدی بنتا ہے یہ عالم فانی جس سے
ایک افسانہ رنگیں ہے جوانی جس سے

جو سکھاتا ہے ہمیں سر بہ گریباں ہونا
منظر عالم حاضر سے گریزاں ہونا

دور ہو جاتی ہے ادراک کی خامی جس سے
عقل کرتی ہے تاثر کی غلامی جس سے

آہ! موجود بھی وہ حسن کہیں ہے کہ نہیں
خاتم دہر میں یا رب وہ نگیں ہے کہ نہیں 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

انسان

Share
قدرت کا عجیب یہ ستم ہے!

انسان کو راز جو بنایا
 راز اس کی نگاہ سے چھپایا

بے تاب ہے ذوق آگہی کا
کھلتا نہیں بھید زندگی کا

حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے

ہے گرم خرام موج دریا
دریا سوئے سجر جادہ پیما

بادل کو ہوا اڑا رہی ہے
شانوں پہ اٹھائے لا رہی ہے

تارے مست شراب تقدیر
زندان فلک میں پا بہ زنجیر

خورشید ، وہ عابد سحر خیز
لانے والا پیام بر خیز
 
مغرب کی پہاڑیوں میں چھپ کر
پیتا ہے مے شفق کا ساغر

لذت گیر وجود ہر شے
سر مست مے نمود ہر شے

کوئی نہیں غم گسار انساں 
کیا تلخ ہے روزگار انساں! 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

عشرت امروز

Share
نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پیام عیش و سرور
نہ کھینچ نقشہ کیفیت شراب طہور

فراق حور میں ہو غم سے ہمکنار نہ تو
پری کو شیشہ الفاظ میں اتار نہ تو

مجھے فریفتہ ساقی جمیل نہ کر
بیان حور نہ کر ، ذکر سلسبیل نہ کر

مقام امن ہے جنت ، مجھے کلام نہیں
شباب کے لیے موزوں ترا پیام نہیں

شباب ، آہ! کہاں تک امیدوار رہے
وہ عیش ، عیش نہیں ، جس کا انتظار رہے

وہ حسن کیا جو محتاج چشم بینا ہو
نمود کے لیے منت پذیر فردا ہو

عجیب چیز ہے احساس زندگانی کا
عقیدہ 'عشرت امروز' ہے جوانی کا


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

نوائے غم

Share
زندگانی ہے مری مثل رباب خاموش
جس کی ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبریز آغوش

بربط کون و مکاں جس کی خموشی پہ نثار
جس کے ہر تار میں ہیں سینکڑوں نغموں کے مزار

محشرستان نوا کا ہے امیں جس کا سکوت
اور منت کش ہنگامہ نہیں جس کا سکوت

آہ! امید محبت کی بر آئی نہ کبھی
چوٹ مضراب کی اس ساز نے کھائی نہ کبھی

مگر آتی ہے نسیم چمن طور کبھی
سمت گردوں سے ہوائے نفس حور کبھی

چھیڑ آہستہ سے دیتی ہے مرا تار حیات
جس سے ہوتی ہے رہا روح گرفتار حیات

نغمہ یاس کی دھیمی سی صدا اٹھتی ہے
اشک کے قافلے کو بانگ درا اٹھتی ہے

جس طرح رفعت شبنم ہے مذاق رم سے
میری فطرت کی بلندی ہے نوائے غم سے 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

کوشش ناتمام

Share
فرقت آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صبح
چشم شفق ہے خوں فشاں اختر شام کے لیے

رہتی ہے قیس روز کو لیلی شام کی ہوس
اختر صبح مضطرب تاب دوام کے لیے

کہتا تھا قطب آسماں قافلہ نجوم سے
ہمرہو ، میں ترس گیا لطف خرام کے لیے

سوتوں کو ندیوں کا شوق ، بحر کا ندیوں کو عشق
موجۂ بحر کو تپش ماہ تمام کے لیے

حسن ازل کہ پردۂ لالہ و گل میں ہے نہاں
کہتے ہیں بے قرار ہے جلوۂ عام کے لیے

راز حیات پو چھ لے خضر خجستہ گام سے
زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش ناتمام سے 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

عاشق ہرجائی

Share
(1)

ہے عجب مجموعۂ اضداد اے اقبال تو
رونق ہنگامۂ محفل بھی ہے، تنہا بھی ہے

تیرے ہنگاموں سے اے دیوانہ رنگیں نوا!
زینت گلشن بھی ہے ، آرائش صحرا بھی ہے

ہم نشیں تاروں کا ہے تو رفعت پرواز سے
اے زمیں فرسا ، قدم تیرا فلک پیما بھی ہے

عین شغل میں پیشانی ہے تیری سجدہ ریز
کچھ ترے مسلک میں رنگ مشرب مینا بھی ہے

مثل بوئے گل لباس رنگ سے عریاں ہے تو
ہے تو حکمت آفریں ، لیکن تجھے سودا بھی ہے

جانب منزل رواں بے نقش پا مانند موج
اور پھر افتادہ مثل ساحل دریا بھی ہے

حسن نسوانی ہے بجلی تیری فطرت کے لیے
پھر عجب یہ ہے کہ تیرا عشق بے پروا بھی ہے

تیری ہستی کا ہے آئین تفنن پر مدار
تو کبھی ایک آستانے پر جبیں فرسا بھی ہے ؟

ہے حسینوں میں وفا نا آشنا تیرا خطاب
اے تلون کیش! تو مشہور بھی ، رسوا بھی ہے

لے کے آیا ہے جہاں میں عادت سیماب تو
تیری بے تابی کے صدقے، ہے عجب بے تاب تو



(2)

عشق کی آشفتگی نے کر دیا صحرا جسے
مشت خاک ایسی نہاں زیر قبا رکھتا ہوں میں

ہیں ہزاروں اس کے پہلو ، رنگ ہر پہلو کا اور
سینے میں ہیرا کوئی ترشا ہوا رکھتا ہوں میں

دل نہیں شاعر کا ، ہے کیفیتوں کی رستخیز
کیا خبر تجھ کو درون سینہ کیا رکھتا ہوں میں

آرزو ہر کیفیت میں اک نئے جلوے کی ہے
مضطرب ہوں ، دل سکوں نا آشنا رکھتا ہوں میں

گو حسین تازہ ہے ہر لحظہ مقصود نظر
حسن سے مضبوط پیمان وفا رکھتا ہوں میں

بے نیازی سے ہے پیدا میری فطرت کا نیاز
سوز و ساز جستجو مثل صبا رکھتا ہوں میں

موجب تسکیں تماشائے شرار جستہ اے
ہو نہیں سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں میں

ہر تقاضا عشق کی فطرت کا ہو جس سے خموش
آہ! وہ کامل تجلی مدعا رکھتا ہوں میں

جستجو کل کی لیے پھرتی ہے اجزا میں مجھے
حسن بے پایاں ہے ، درد لادوا رکھتا ہوں میں

زندگی الفت کی درد انجامیوں سے ہے مری
عشق کو آزاد دستور وفا رکھتا ہوں میں

سچ اگر پوچھے تو افلاس تخیل ہے وفا
دل میں ہر دم اک نیا محشر بپا رکھتا ہوں میں

فیض ساقی شبنم آسا ، ظرف دل دریا طلب
تشنۂ دائم ہوں آتش زیر پا رکھتا ہوں میں

مجھ کو پیدا کر کے اپنا نکتہ چیں پیدا کیا
نقش ہوں ، اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں میں

محفل ہستی میں جب ایسا تنک جلوہ تھا حسن
پھر تخیل کس لیے لا انتہا رکھتا ہوں میں

در بیابان طلب پیوستہ می کوشیم ما
موج بحریم و شکست خویش بر دوشیم ما


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

سلیمی

Share
جس کی نمود دیکھی چشم ستارہ بیں نے
خورشید میں ، قمر میں ، تاروں کی انجمن میں

صوفی نے جس کو دل کے ظلمت کدے میں پایا
شاعر نے جس کو دیکھا قدرت کے بانکپن میں

جس کی چمک ہے پیدا ، جس کی مہک ہویدا
شبنم کے موتیوں میں ، پھولوں کے پیرہن میں

صحرا کو ہے بسایا جس نے سکوت بن کر
ہنگامہ جس کے دم سے کاشانہ چمن میں

ہر شے میں ہے نمایاں یوں تو جمال اس کا
آنکھوں میں ہے سلیمی تیری کمال اس کا 


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails