Showing posts with label نظم. Show all posts
Showing posts with label نظم. Show all posts

Monday, June 14, 2010

طلوع اسلام

Share
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا ،گیا دور گراں خوابی

عروق مردئہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی

اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل!
نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی

تڑپ صحن چمن میں، آشیاں میں ، شاخساروں میں
جدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابی

وہ چشم پاک بیں کیوں زینت برگستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابی

ضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دے
چمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دے

سرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا

کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

ربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

ترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دے

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے

مکاں فانی ، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو، جاوداں تو ہے

حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے، معمار جہاں تو ہے

تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے

جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
نبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے

یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے

سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک!
ترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانی

گمان آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی

مٹایا قیصر و کسری کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زور حیدر، فقر بوذر، صدق سلمانی

ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی

ثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تورانی

جب اس انگارئہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

ولایت ، پادشاہی ، علم اشیا کی جہاں گیری
یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تغریریں

حقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

چہ باید مرد را طبع بلندے ، مشرب نابے
دل گرمے ، نگاہ پاک بینے ، جان بیتابے

عقابی شان سے جھپٹے تھے جو ، بے بال و پر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے

ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے ، جو ، بن کر گہر نکلے

غبار رہ گزر ہیں، کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو، اکسیر گر نکلے

ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے

زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ، ادھر نکلے ادھر ڈوبے ، ادھر نکلے

یقیں افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

تو راز کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی
تو اے شرمندئہ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا

غبار آلودئہ رنگ ونسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا

ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی

ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

وہ حکمت ناز تھا جس پر خرو مندان مغرب کو
ہوس کے پنچہ خونیں میں تیغ کارزاری ہے

تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

خروش آموز بلبل ہو ، گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے

پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمیں جولاں گہ اطلس قبایان تتاری ہے

بیا پیدا خریدارست جان ناتوانے را
پس از مدت گذار افتاد بر ما کاروانے را

بیا ساقی نواے مرغ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد

کشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صداے آبشاراں از فراز کوہسار آمد

سرت گردم تو ہم قانون پیشیں سازدہ ساقی
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد

کنار از زاہداں برگیروبے باکانہ ساغر کش
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد

بہ مشتاقاں حدیث خواجہ بدر و حنین آور
تصرف ہاے پنہانش بچشمم آشکار آمد

دگر شاخ خلیل از خون ما نم ناک می گرد
بیازار محبت نقد ما کامل عیار آمد

سر خاک شہیدے برگہاے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہال ملت ما سازگار آمد

بیا تا گل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

دنیائے اسلام

Share
کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
خشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز

ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور نیاز

لے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارس
وہ مےء سرکش حرارت جس کی ہے مینا گداز

حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

ہوگیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

گفت رومی ہر بناے کہنہ کآباداں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگر

مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
مور بے پر! حاجتے پیش سلیمانے مبر

ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں ، مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استور
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

تو نے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر، دیکھ

کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
ہر زماں پیش نظر، 'لایخلف المیعاد' دار


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

سرمایہ و محنت

Share
بندئہ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیام کائنات

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

دست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات

ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات

نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات

کٹ مرا ناداں خیالی دیوتائوں کے لیے
سکرکی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیات

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی اندازہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول
غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک

نغمہ بیداری جمہور ہے سامان عیش
قصہ خواب آور اسکندر و جم کب تلک

آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا
آسمان! ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

توڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمام
دوری جنت سے روتی چشم آدم کب تلک

باغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہار
زخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلک

کرمک ناداں! طواف شمع سے آزاد ہو
اپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہو


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

سلطنت

Share
آبتائوں تجھ کو رمز آیۂ 'ان الملوک'
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز
دیکھتی ہے حلقۂ گردن میں ساز دلبری

خون اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسی طلسم سامری

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتان آزری

از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن
تا تراشی خواجہ ے از برہمن کافر تری

ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

دیو استبداد جمہوری قبا میں پاے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طب مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

گرمی گفتار اعضائے مجالس، الاماں!
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری

اس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں! قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

زندگی

Share
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے، ضمیر کن فکاں ہے زندگی

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی

آشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

زندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرے

خاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے

سوئے گردوں نالہ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تارں میں اپنے رازداں پیدا کرے

یہ گھڑی محشر کی ہے ، تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

خضر راہ

Share
شاعر

ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر
گوشہ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب

شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب

رات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
انجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتاب

دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شباب

کہہ رہا ہے مجھ سے، اے جویائے اسرار ازل!
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب

دل میں یہ سن کر بپا ہنگامہ محشر ہوا
میں شہید جستجو تھا، یوں سخن گستر ہوا

اے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموش

'کشتی مسکین، و 'جان پاک' و 'دیوار یتیم،
علم موسی بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش

چھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا دوش

زندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہے
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش

ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہ دیرینہ چاک
نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پیرایہ پوش

گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم نائونوش

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!

Related Posts with Thumbnails

ہمایوں - مسٹر جسٹسں شاہ دین مرحوم

Share
اے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھی
تیری چنگاری چراغ انجمن افروز تھی

گرچہ تھا تیرا تن خاکی نزار و دردمند
تھی ستارے کی طرح روشن تری طبع بلند

کس قدر بے باک دل اس ناتواں پیکر میں تھا
شعلہ گردوں نورد اک مشت خاکستر میں تھا

موت کی لیکن دل دانا کو کچھ پروا نہیں
شب کی خاموشی میں جز ہنگامہ فردا نہیں

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی، صبح دوام زندگی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

دریوزہ خلافت

Share
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی

نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی

خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی

مرا از شکستن چناں عار ناید
کہ از دیگراں خواستن مومیائی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

اسیری

Share
ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند
قطرئہ نیساں ہے زندان صدف سے ارجمند

مشک اذفر چیز کیا ہے ، اک لہو کی بوند ہے
مشک بن جاتی ہے ہو کر نافہ آہو میں بند

ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت، مگر
کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام وقفس سے بہرہ مند

شہپر زاغ و زغن در بند قید و صید نیست
ایں سعادت قسمت شہباز و شاہیں کردہ اند


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

میں اورتو

Share
نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاک جادوئے سامری، تو قتیل شیوئہ آزری

میں نوائے سوختہ در گلو ، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بو
میں حکایت غم آرزو ، تو حدیث ماتم دلبری

مرا عیش غم ،مرا شہد سم ، مری بود ہم نفس عدم
ترا دل حرم، گرو عجم ترا دیں خریدہ کافری

دم زندگی رم زندگی، غم زندگی سم زندگی
غم رم نہ کر، سم غم نہ کھا کہ یہی ہے شان قلندری

تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیال فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدار قوت حیدری

کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا!
کہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشت سمندری

گلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہل حرم سے ہے
کسی بت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی 'ہری ہری'

نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریف پنجہ فگن نئے
وہی فطرت اسد اللہی وہی مرحبی، وہی عنتری

کرم اے شہ عرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظر کرم
وہ گدا کہ تو نے عطا کیا ہے جنھیں دماغ سکندری


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

شیکسپیر

Share
شفق صبح کو دریا کا خرام آئینہ
نغمہ شام کو خاموشی شام آئینہ

برگ گل آئنہ عارض زبیائے بہار
شاہد مے کے لیے حجلہ جام آئینہ

حسن آئنہ حق اور دل آئنہ حسن
دل انساں کو ترا حسن کلام آئینہ

ہے ترے فکر فلک رس سے کمال ہستی
کیا تری فطرت روشن تھی مآل ہستی

تجھ کو جب دیدئہ دیدار طلب نے ڈھونڈا
تاب خورشید میں خورشید کو پنہاں دیکھا

چشم عالم سے تو ہستی رہی مستور تری
اور عالم کو تری آنکھ نے عریاں دیکھا

حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا
رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

پھول

Share
تجھے کیوں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کی
تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے

تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں
تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کرلے

صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گل بھی ہے
انھی پابندیوں میں حاصل آزادی کو تو کر لے

تنک بخشی کو استغنا سے پیغام خجالت دے
نہ رہ منت کش شبنم نگوں جام وسبو کر لے

نہیں یہ شان خودداری ، چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے ، کوئی زیب گلو کر لے

چمن میں غنچہ گل سے یہ کہہ کر اڑ گئی شبنم
مذاق جور گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے

اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا
جہان رنگ و بو سے، پہلے قطع آرزو کر لے

اسی میں دیکھ ، مضمر ہے کمال زندگی تیرا
جو تجھ کو زینت دامن کوئی آئینہ رو کر لے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

شب معراج

Share
اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات

رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرش بریں
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ!

Share
ڈالی گئی جو فصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ
ممکن نہیں ہری ہو سحاب بہار سے

ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے
کچھ واسطہ نہیں ہے اسے برگ و بار سے

ہے تیرے گلستاں میں بھی فصل خزاں کا دور
خالی ہے جیب گل زر کامل عیار سے

جو نغمہ زن تھے خلوت اوراق میں طیور
رخصت ہوئے ترے شجر سایہ دار سے

شاخ بریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو
ناآشنا ہے قاعدئہ روزگار سے

ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ!


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

مذہب

Share
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

جنگ یرموک کا ایک واقعہ

Share
صف بستہ تھے عرب کے جوانان تیغ بند
تھی منتظر حنا کی عروس زمین شام

اک نوجوان صورت سیماب مضطرب
آ کر ہوا امیر عساکر سے ہم کلام

اے بوعبیدہ رخصت پیکار دے مجھے
لبریز ہو گیا مرے صبر و سکوں کو جام

بے تاب ہو رہا ہوں فراق رسول میں
اک دم کی زندگی بھی محبت میں ہے حرام

جاتا ہوں میں حضور رسالت پناہ میں
لے جائوں گا خوشی سے اگر ہو کوئی پیام

یہ ذوق و شوق دیکھ کے پرنم ہوئی وہ آنکھ
جس کی نگاہ تھی صفت تیغ بے نیام

بولا امیر فوج کہ وہ نوجواں ہے تو
پیروں پہ تیرے عشق کا واجب ہے احترام

پوری کرے خدائے محمد تری مراد
کتنا بلند تیری محبت کا ہے مقام!

پہنچے جو بارگاہ رسول امیں میں تو
کرنا یہ عرض میری طرف سے پس از سلام

ہم پہ کرم کیا ہے خدائے غیور نے
پورے ہوئے جو وعدے کیے تھے حضور نے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

سعدی

Share
تعلیم پیر فلسفۂ مغربی ہے یہ
ناداں ہیں جن کو ہستی غائب کی ہے تلاش

پیکر اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کیا
ہے شیخ بھی مثال برہمن صنم تراش

محسوس پر بنا ہے علوم جدید کی
اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش

مذہب ہے جس کا نام، وہ ہے اک جنون خام
ہے جس سے آدمی کے تخیل کو انتعاش

کہتا مگر ہے فلسفۂ زندگی کچھ اور
مجھ پر کیا یہ مرشد کامل نے راز فاش

با ہر کمال اند کے آشفتگی خوش است
ہر چند عقل کل شدہ ای بے جنوں مباش

شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

فردوس میں ایک مکالمہ

Share
ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز
حالی سے مخاطب ہوئے یوں سعدی شیراز

اے آنکہ ز نور گہر نظم فلک تاب
دامن بہ چراغ مہ اختر زدہ ای باز!

کچھ کیفیت مسلم ہندی تو بیاں کر
واماندئہ منزل ہے کہ مصروف تگ و تاز

مذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں میں؟
تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمی آواز

باتوں سے ہوا شیخ کی حالی متاثر
رو رو کے لگا کہنے کہ اے صاحب اعجاز

جب پیر فلک نے ورق ایام کا الٹا
آئی یہ صدا ، پائوگے تعلیم سے اعزاز

آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل
دنیا تو ملی، طائر دیں کر گیا پرواز

دیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی
فطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر زمیں تاز

مذہب سے ہم آہنگی افراد ہے باقی
دیں زخمہ ہے ، جمعیت ملت ہے اگر ساز

بنیاد لرز جائے جو دیوار چمن کی
ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا ہے آغاز

پانی نہ ملا زمزم ملت سے جو اس کو
پیدا ہیں نئی پود میں الحاد کے انداز

یہ ذکر حضور شہ یثرب میں نہ کرنا
سمجھیں نہ کہیں ہند کے مسلم مجھے غماز

خرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم
دیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

تضمین بر شعر صائب

Share
کہاں اقبال تو نے آ بنایا آشیاں اپنا
نوا اس باغ میں بلبل کو ہے سامان رسوائی

شرارے وادی ایمن کے تو بوتا تو ہے لیکن
نہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں سے تخم سینائی

کلی زور نفس سے بھی وہاں گل ہو نہیں سکتی
جہاں ہر شے ہو محروم تقاضائے خود افزائی

قیامت ہے کہ فطرت سو گئی اہل گلستاں کی
نہ ہے بیدار دل پیری، نہ ہمت خواہ برنائی

دل آگاہ جب خوابیدہ ہو جاتے ہیں سینوں میں
نو اگر کے لیے زہراب ہوتی ہے شکر خائی

نہیں ضبط نوا ممکن تو اڑ جا اس گلستاں سے
کہ اس محفل سے خوشتر ہے کسی صحرا کی تنہائی

ہماں بہتر کہ لیلی در بیاباں جلوہ گر باشد
ندارد تنگناے شہر تاب حسن صحرائی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

پھولوں کی شہزادی

Share
کلی سے کہہ رہی تھی ایک دن شبنم گلستاں میں
رہی میں ایک مدت غنچہ ہائے باغ رضواں میں

تمھارے گلستاں کی کیفیت سرشار ہے ایسی
نگہ فردوس در دامن ہے میری چشم حیراں میں

سنا ہے کوئی شہزادی ہے حاکم اس گلستاں کی
کہ جس کے نقش پا سے پھول ہوں پیدا بیاباں میں

کبھی ساتھ اپنے اس کے آستاں تک مجھ کو تو لے چل
چھپا کر اپنے دامن میں برنگ موج بو لے چل

کلی بولی، سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادی
درخشاں جس کی ٹھوکر سے ہوں پتھر بھی نگیں بن کر

مگر فطرت تری افتندہ اور بیگم کی شان اونچی
نہیں ممکن کہ تو پہنچے ہماری ہم نشیں بن کر

پہنچ سکتی ہے تو لیکن ہماری شاہزادی تک
کسی دکھ درد کے مارے کا اشک آتشیں بن کر

نظر اس کی پیام عید ہے اہل محرم کو
بنا دیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشک پیہم کو


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails