بانگ درا --- علامہ محمّد اقبال
Pages
(Move to ...)
بانگ درا
Disclosure Privacy
▼
Showing posts with label
نظم
.
Show all posts
Showing posts with label
نظم
.
Show all posts
Monday, June 14, 2010
طلوع اسلام
›
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا ،گیا دور گراں خوابی عروق مردئہ مشرق میں خون زندگی دوڑا سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا...
دنیائے اسلام
›
کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل خشت بنیاد کلیسا بن گئی خ...
سرمایہ و محنت
›
بندئہ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیام کائنات اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری...
سلطنت
›
آبتائوں تجھ کو رمز آیۂ 'ان الملوک' سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمر...
زندگی
›
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں پیہم دواں، ہر دم جوا...
خضر راہ
›
شاعر ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر گوشہ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ...
ہمایوں - مسٹر جسٹسں شاہ دین مرحوم
›
اے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھی تیری چنگاری چراغ انجمن افروز تھی گرچہ تھا تیرا تن خاکی نزار و دردمند تھی ستارے کی طرح روشن تری طبع بلند...
دریوزہ خلافت
›
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا خلافت کی کرنے لگا تو گدائی خریدیں نہ جس کو ہم ...
اسیری
›
ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند قطرئہ نیساں ہے زندان صدف سے ارجمند مشک اذفر چیز کیا ہے ، اک لہو کی بوند ہے مشک بن جاتی ہے ہو کر نافہ آ...
میں اورتو
›
نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا میں ہلاک جادوئے سامری، تو قتیل شیوئہ آزری میں نوائے سوختہ در گلو ، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بو...
شیکسپیر
›
شفق صبح کو دریا کا خرام آئینہ نغمہ شام کو خاموشی شام آئینہ برگ گل آئنہ عارض زبیائے بہار شاہد مے کے لیے حجلہ جام آئینہ حسن آئنہ حق اور دل آ...
پھول
›
تجھے کیوں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کی تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں تو کانٹوں میں الجھ کر زن...
شب معراج
›
اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرش بریں کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی را...
پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ!
›
ڈالی گئی جو فصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ ممکن نہیں ہری ہو سحاب بہار سے ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے کچھ واسطہ نہیں ہے اسے برگ و بار سے ہے تیر...
مذہب
›
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار قوت مذہب سے مستحکم ہے جمع...
جنگ یرموک کا ایک واقعہ
›
صف بستہ تھے عرب کے جوانان تیغ بند تھی منتظر حنا کی عروس زمین شام اک نوجوان صورت سیماب مضطرب آ کر ہوا امیر عساکر سے ہم کلام اے بوعبیدہ رخصت...
سعدی
›
تعلیم پیر فلسفۂ مغربی ہے یہ ناداں ہیں جن کو ہستی غائب کی ہے تلاش پیکر اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کیا ہے شیخ بھی مثال برہمن صنم تراش محس...
فردوس میں ایک مکالمہ
›
ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز حالی سے مخاطب ہوئے یوں سعدی شیراز اے آنکہ ز نور گہر نظم فلک تاب دامن بہ چراغ مہ اختر زدہ ای باز! ...
تضمین بر شعر صائب
›
کہاں اقبال تو نے آ بنایا آشیاں اپنا نوا اس باغ میں بلبل کو ہے سامان رسوائی شرارے وادی ایمن کے تو بوتا تو ہے لیکن نہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں...
پھولوں کی شہزادی
›
کلی سے کہہ رہی تھی ایک دن شبنم گلستاں میں رہی میں ایک مدت غنچہ ہائے باغ رضواں میں تمھارے گلستاں کی کیفیت سرشار ہے ایسی نگہ فردوس در دامن ہے...
›
Home
View web version