Friday, June 18, 2010

بانگ درا

Share
حصہ اول 1905 تک

حصہ دوم 1905 سے 1908 ت

حصہ سوم 1908سے
Related Posts with Thumbnails

Wednesday, June 16, 2010

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

Share
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

کیا خوب امیر فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا

تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں، پر کیا لذت اس رونے میں
جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتارکا یہ غازی تو بنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا


Related Posts with Thumbnails

کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار

Share
کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار
عیش کا پتلا ہے، محنت ہے اسے ناسازگار

حکم حق ہے لیس للا نسان الا ماسعی
کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

Share
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

الکشن، ممبری، کونسل، صدارت
بنائے خوب آزادی نے پھندے

میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روز

Share
تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روز
دونوں یہ کہہ رہے تھے، مرا مال ہے زمیں

کہتا تھا وہ، کرے جو زراعت اسی کا کھیت
کہتا تھا یہ کہ عقل ٹھکانے تری نہیں

پوچھا زمیں سے میں نے کہ ہے کس کا مال تو
بولی مجھے تو ہے فقط اس بات کا یقیں

مالک ہے یا مزارع شوریدہ حال ہے
جو زیر آسماں ہے ، وہ دھرتی کا مال ہے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل

Share
شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل
رکھ کے میخانے کے سارے قاعدے بالائے طاق

یہ اگر سچ ہے تو ہے کس درجہ عبرت کا مقام
رنگ اک پل میں بدل جاتا ہے یہ نیلی رواق

حضرت کرزن کو اب فکر مداوا ہے ضرور
حکم برداری کے معدے میں ہے درد لایطاق

وفد ہندستاں سے کرتے ہیں سرآغا خاں طلب
کیا یہ چورن ہے پےء ہضم فلسطین و عراق؟


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئے

Share
محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئے
دیکھے ہوتا ہے کس کس کی تمنائوں کا خون

حکمت و تدبیر سے یہ فتنہ آشوب خیز
ٹل نہیں سکتا ، وقد کنتم بہ تستعجلون

'کھل گئے، یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف 'ینسلون'


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست

Share
جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
ہے یہی اک بات ہر مذہب کا تت

چٹے بٹے ایک ہی تھیلی کے ہیں
ساہو کاری، بسوہ داری، سلطنت


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

یہ آیہ نو ، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر

Share
یہ آیہ نو ، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر
گیتا میں ہے قرآن تو قرآن میں گیتا

کیا خوب ہوئی آشتی شیخ و برہمن
اس جنگ میں آخر نہ یہ ہارا نہ وہ جیتا

مندر سے تو بیزار تھا پہلے ہی سے 'بدری'
مسجد سے نکلتا نہیں، ضدی ہے مسیتا'


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

رات مچھر نے کہہ دیا مجھ سے

Share
رات مچھر نے کہہ دیا مجھ سے
ماجرا اپنی ناتمامی کا

مجھ کو دیتے ہیں ایک بوند لہو
صلہ شب بھر کی تشنہ کامی کا

اور یہ بسوہ دار، بے زحمت
پی گیا سب لہو اسامی کا


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

گائے اک روز ہوئی اونٹ سے یوں گرم سخن

Share
گائے اک روز ہوئی اونٹ سے یوں گرم سخن
نہیں اک حال پہ دنیا میں کسی شے کو قرار

میں تو بد نام ہوئی توڑ کے رسی اپنی
سنتی ہوں آپ نے بھی توڑکے رکھ دی ہے مہار

ہند میں آپ تو از روئے سیاست ہیں اہم
ریل چلنے سے مگر دشت عرب میں بیکار

کل تلک آپ کو تھا گائے کی محفل سے حذر
تھی لٹکتے ہوئے ہونٹوں پہ صدائے زنہار

آج یہ کیا ہے کہ ہم پر ہے عنایت اتنی
نہ رہا آئنۂ دل میں وہ دیرینہ غبار

جب یہ تقریر سنی اونٹ نے، شرما کے کہا
ہے ترے چاہنے والوں میں ہمارا بھی شمار

رشک صد غمزئہ اشتر ہے تری ایک کلیل
ہم تو ہیں ایسی کلیلوں کے پرانے بیمار

ترے ہنگاموں کی تاثیر یہ پھیلی بن میں
بے زبانوں میں بھی پیدا ہے مذاق گفتار

ایک ہی بن میں ہے مدت سے بسیرا اپنا
گرچہ کچھ پاس نہیں، چارا بھی کھاتے ہیں ادھار

گوسفند و شتر و گاو و پلنگ و خر لنگ
ایک ہی رنگ میں رنگیں ہوں تو ہے اپنا وقار

باغباں ہو سبق آموز جو یکرنگی کا
ہمزباں ہو کے رہیں کیوں نہ طیور گلزار

دے وہی جام ہمیں بھی کہ مناسب ہے یہی
تو بھی سرشار ہو، تیرے رفقا بھی سرشار

دلق حافظ بچہ ارزد بہ میش رنگیں کن
وانگہش مست و خراب از رہ بازار بیار


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

دیکھے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک

Share
دیکھے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
شیشہ دیں کے عوض جام و سبو لیتا ہے

ہے مداوائے جنون نشتر تعلیم جدید
میرا سرجن رگ ملت سے لہو لیتا ہے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

فرما رہے تھے شیخ طریق عمل پہ وعظ

Share
فرما رہے تھے شیخ طریق عمل پہ وعظ
کفار ہند کے ہیں تجارت میں سخت کوش

مشرک ہیں وہ جو رکھتے ہیں مشرک سے لین دین
لیکن ہماری قوم ہے محروم عقل و ہوش

ناپاک چیز ہوتی ہے کافر کے ہاتھ کی
سن لے، اگر ہے گوش مسلماں کا حق نیوش

اک بادہ کش بھی وعظ کی محفل میں تھا شریک
جس کے لیے نصیحت واعظ تھی بار گوش

کہنے لگا ستم ہے کہ ایسے قیود کی
پابند ہو تجارت سامان خورد و نوش

میں نے کہا کہ آپ کو مشکل نہیں کوئی
ہندوستاں میں ہیں کلمہ گو بھی مے فروش


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

دلیل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کیا ہوگی

Share
دلیل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کیا ہوگی
نہ ہو حضور سے الفت تو یہ ستم نہ سہیں

مصر ہے حلقہ ،کمیٹی میں کچھ کہیں ہم بھی
مگر رضائے کلکٹر کو بھانپ لیں تو کہیں

سند تو لیجیے ، لڑکوں کے کام آئے گی
وہ مہربان ہیں اب، پھر رہیں، رہیں نہ رہیں

زمین پر تو نہیں ہندیوں کو جا ملتی
مگر جہاں میں ہیں خالی سمندروں کی تہیں

مثال کشتی بے حس مطیع فرماں ہیں
کہو تو بستہ ساحل رہیں ، کہو تو بہیں


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

ممبری امپیریل کونسل کی کچھ مشکل نہیں

Share
ممبری امپیریل کونسل کی کچھ مشکل نہیں
ووٹ تو مل جائیں گے ، پیسے بھی دلوائیں گے کیا؟

میرزا غالب خدا بخشے ، بجا فرما گئے
ہم نے یہ ماناکہ دلی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

ہندوستاں میں جزو حکومت ہیں کونسلیں

Share
ہندوستاں میں جزو حکومت ہیں کونسلیں
آغاز ہے ہمارے سیاسی کمال کا

ہم تو فقیر تھے ہی، ہمارا تو کام تھا
سیکھیں سلیقہ اب امرا بھی 'سوال' کا


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر

Share
ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر
حاصل ہوا یہی، نہ بچے مار پیٹ سے

مغرب میں ہے جہاز بیاباں شتر کا نام
ترکوں نے کام کچھ نہ لیا اس فلیٹ سے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

وہ مس بولی ارادہ خودکشی کا جب کیا میں نے

Share
وہ مس بولی ارادہ خودکشی کا جب کیا میں نے
مہذب ہے تو اے عاشق! قدم باہر نہ دھر حد سے

نہ جرات ہے ، نہ خنجر ہے تو قصد خودکشی کیسا
یہ مانا درد ناکامی گیا تیرا گزر حد سے

کہا میں نے کہ اے جاں جہاں کچھ نقد دلوا دو
کرائے پر منگالوں گا کوئی افغان سرحد سے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

ہاتھوں سے اپنے دامن دنیا نکل گیا

Share
ہاتھوں سے اپنے دامن دنیا نکل گیا
رخصت ہوا دلوں سے خیال معاد بھی

قانوں وقف کے لیے لڑتے تھے شیخ جی
پوچھو تو، وقف کے لیے ہے جائداد بھی!


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے

Share
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
غالب کا قول سچ ہے تو پھر ذکر غیر کیا

کیوں اے جناب شیخ! سنا آپ نے بھی کچھ
کہتے تھے کعبے والوں سے کل اہل دیر کیا

ہم پوچھتے ہیں مسلم عاشق مزاج سے
الفت بتوں سے ہے تو برہمن سے بیر کیا!


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے

Share
ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے
واں کنڑ سب بلوری ہیں یاں ایک پرانا مٹکا ہے

اس دور میں سب مٹ جائیں گے، ہاں! باقی وہ رہ جائے گا
جو قائم اپنی راہ پہ ہے اور پکا اپنی ہٹ کا ہے

اے شیخ و برہمن، سنتے ہو! کیا اہل بصیرت کہتے ہیں
گردوں نے کتنی بلندی سے ان قوموں کو دے پٹکا ہے

یا باہم پیار کے جلسے تھے ، دستور محبت قائم تھا
یا بحث میں اردو ہندی ہے یا قربانی یا جھٹکا ہے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک

Share
انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک
چھتریاں، رومال، مفلر، پیرہن جاپان سے

اپنی غفلت کی یہی حالت اگر قائم رہی
آئیں گے غسال کابل سے ،کفن جاپان سے

شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!

Share
تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!
دفع مرض کے واسطے پل پیش کیجیے

تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض
دل چاہتا تھا ہدیۂ دل پیش کیجیے

بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق
کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجیے!


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

کچھ غم نہیں جو حضرت واعظ ہیں تنگ دست

Share
کچھ غم نہیں جو حضرت واعظ ہیں تنگ دست
تہذیب نو کے سامنے سر اپنا خم کریں

رد جہاد میں تو بہت کچھ لکھا گیا
تردید حج میں کوئی رسالہ رقم کریں


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل

Share
شام کی سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم یزل
رکھ کے میخانے کے سارے قاعدے بالائے طاق

یہ اگر سچ ہے تو ہے کس درجہ عبرت کا مقام
رنگ اک پل میں بدل جاتا ہے یہ نیلی رواق

حضرت کرزن کو اب فکر مداوا ہے ضرور
حکم برداری کے معدے میں ہے درد لایطاق

وفد ہندستاں سے کرتے ہیں سرآغا خاں طلب
کیا یہ چورن ہے پےء ہضم فلسطین و عراق؟


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

تعلیم مغربی ہے بہت جرات آفریں

Share
تعلیم مغربی ہے بہت جرات آفریں
پہلا سبق ہے، بیٹھ کے کالج میں مار ڈینگ

بستے ہیں ہند میں جو خریدار ہی فقط
آغا بھی لے کے آتے ہیں اپنے وطن سے ہینگ

میرا یہ حال، لوٹ کی ٹو چاٹتا ہوں میں
ان کا یہ حکم، دیکھ! مرے فرش پر نہ رینگ

کہنے لگے کہ اونٹ ہے بھدا سا جانور
اچھی ہے گائے، رکھتی ہے کیا نوک دار سینگ


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

یہ کوئی دن کی بات ہے اے مرد ہوش مند!

Share
یہ کوئی دن کی بات ہے اے مرد ہوش مند!
غیرت نہ تجھ میں ہو گی، نہ زن اوٹ چاہے گی

آتا ہے اب وہ دور کہ اولاد کے عوض
کونسل کی ممبری کے لیے ووٹ چاہے گی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں

Share
شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں
مفت میں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہو گئے

وعظ میں فرما دیا کل آپ نے یہ صاف صاف
پردہ آخر کس سے ہو جب مرد ہی زن ہو گئے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا

Related Posts with Thumbnails

لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی

Share
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈلی قوم نے فلاح کی راہ

روش مغربی ہے مدنظر
وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ

یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا


Related Posts with Thumbnails

مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں

Share
مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں
مغرب میں مگر مشین بن جاتے ہیں

رہتا نہیں ایک بھی ہمارے پلے
واں ایک کے تین تین بن جاتے ہیں


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

گرچہ تو زندانی اسباب ہے

Share
گرچہ تو زندانی اسباب ہے
قلب کو لیکن ذرا آزاد رکھ

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

اے مسلماں! ہر گھڑی پیش نظر
آیہ 'لا یخلف المیعاد' رکھ

یہ 'لسان العصر' کا پیغام ہے
ان وعد اللہ حق یاد رکھ


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

تہ دام بھی غزل آشنا رہے طائران چمن تو کیا

Share
تہ دام بھی غزل آشنا رہے طائران چمن تو کیا
جو فغاں دلوں میں تڑپ رہی تھی، نوائے زیر لبی رہی

ترا جلوہ کچھ بھی تسلی دل ناصبور نہ کر سکا
وہ گریہ سحری رہا ، وہی آہ نیم شبی رہی

نہ خدا رہا نہ صنم رہے ، نہ رقیب دیر حرم رہے
نہ رہی کہیں اسد اللہی، نہ کہیں ابولہبی رہی

مرا ساز اگرچہ ستم رسیدئہ زخمہ ہائے عجم رہا
وہ شہید ذوق وفا ہوں میں کہ نوا مری عربی رہی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

کبھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میں

Share
کبھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو، تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردئہ ساز میں

تو بچابچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں

دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثرکہن
نہ تری حکایت سوز میں، نہ مری حدیث گداز میں

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

پھر باد بہار آئی ، اقبال غزل خواں ہو

Share
پھر باد بہار آئی ، اقبال غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر گل ہو ، گل ہے تو گلستاں ہو

تو خاک کی مٹھی ہے ، اجزا کی حرارت سے
برہم ہو، پریشاں ہو ، وسعت میں بیاباں ہو

تو جنس محبت ہے ، قیمت ہے گراں تیری
کم مایہ ہیں سوداگر ، اس دیس میں ارزاں ہو

کیوں ساز کے پردے میں مستور ہو لے تیری
تو نغمہ رنگیں ہے ، ہر گوش پہ عریاں ہو

اے رہرو فرزانہ! رستے میں اگر تیرے
گلشن ہے تو شبنم ہو، صحرا ہے تو طوفاں ہو

ساماں کی محبت میں مضمر ہے تن آسانی
مقصد ہے اگر منزل ، غارت گر ساماں ہو


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

Monday, June 14, 2010

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر

Share
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر
چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائی کر
تو جو بجلی ہے تو یہ چشمک پنہاں کب تک
بے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر
نفس گرم کی تاثیر ہے اعجاز حیات
تیرے سینے میں اگر ہے تو مسیحائی کر
کب تلک طور پہ دریوزہ گرمی مثل کلیم
اپنی ہستی سے عیاں شعلہ سینائی کر
ہو تری خاک کے ہر ذرے سے تعمیر حرم
دل کو بیگانہ انداز کلیسائی کر
اس گلستاں میں نہیں حد سے گزرنا اچھا
ناز بھی کر تو بہ اندازئہ رعنائی کر
پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے
پھر جہاں میں ہوس شوکت دارائی کر
مل ہی جائے گی کبھی منزل لیلی اقبال!
کوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر
شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

Share
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

بے خطر کود پڑا آتش نمردو میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

عشق فرمودئہ قاصد سے سبک گام عمل
عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی

شیوئہ عشق ہے آزادی و دہر آشوبی
تو ہے زناری بت خانۂ ایام ابھی

عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی
ہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی

سعی پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیات
تیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی

ابر نیساں! یہ تنک بخشی شبنم کب تک
مرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی

بادہ گردان عجم وہ ، عربی میری شراب
مرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے آشام ابھی

خبر اقبال کی لائی ہے گلستاں سے نسیم
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے

Share
یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے
یہ سرود قمری و بلبل فریب گوش ہے

باطن ہنگامہ آباد چمن خاموش ہے
تیرے پیمانوں کا ہے یہ اے مےء مغرب اثر

خندہ زن ساقی ہے، ساری انجمن بے ہوش ہے
دہر کے غم خانے میں تیرا پتا ملتا نہیں

جرم تھا کیا آفرینش بھی کہ تو روپوش ہے
آہ! دنیا دل سمجھتی ہے جسے، وہ دل نہیں

پہلوئے انساں میں اک ہنگامۂ خاموش ہے
زندگی کی رہ میں چل، لیکن ذرا بچ بچ کے چل

یہ سمجھ لے کوئی مینا خانہ بار دوش ہے
جس کے دم سے دلی و لاہور ہم پہلو ہوئے

آہ، اے اقبال وہ بلبل بھی اب خاموش ہے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا

Share
اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا، دنیا بھی گئی

یہ موج پریشاں خاطر کو پیغام لب ساحل نے دیا
ہے دور وصال بحر بھی، تو دریا میں گھبرا بھی گئی

عزت ہے محبت کی قائم اے قیس! حجاب محمل سے
محمل جو گیا عزت بھی گئی، غیرت بھی گئی لیلا بھی گئی

کی ترک تگ و دو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھی ملی
آوارگی فطرت بھی گئی اور کشمکش دریا بھی گئی

نکلی تو لب اقبال سے ہے، کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا
پیغام سکوں پہنچا بھی گئی ، دل محفل کا تڑپا بھی گئی


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

طلوع اسلام

Share
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا ،گیا دور گراں خوابی

عروق مردئہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی، ذہن ہندی، نطق اعرابی

اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل!
نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی

تڑپ صحن چمن میں، آشیاں میں ، شاخساروں میں
جدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابی

وہ چشم پاک بیں کیوں زینت برگستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابی

ضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دے
چمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دے

سرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا

کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

ربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

ترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دے

خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے

مکاں فانی ، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو، جاوداں تو ہے

حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے، معمار جہاں تو ہے

تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے

جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
نبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے

یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے

سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک!
ترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانی

گمان آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی

مٹایا قیصر و کسری کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زور حیدر، فقر بوذر، صدق سلمانی

ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی

ثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تورانی

جب اس انگارئہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

ولایت ، پادشاہی ، علم اشیا کی جہاں گیری
یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تغریریں

حقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

چہ باید مرد را طبع بلندے ، مشرب نابے
دل گرمے ، نگاہ پاک بینے ، جان بیتابے

عقابی شان سے جھپٹے تھے جو ، بے بال و پر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے

ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے ، جو ، بن کر گہر نکلے

غبار رہ گزر ہیں، کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو، اکسیر گر نکلے

ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے

زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ، ادھر نکلے ادھر ڈوبے ، ادھر نکلے

یقیں افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

تو راز کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی
تو اے شرمندئہ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا

غبار آلودئہ رنگ ونسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا

ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی

ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

وہ حکمت ناز تھا جس پر خرو مندان مغرب کو
ہوس کے پنچہ خونیں میں تیغ کارزاری ہے

تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

خروش آموز بلبل ہو ، گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے

پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمیں جولاں گہ اطلس قبایان تتاری ہے

بیا پیدا خریدارست جان ناتوانے را
پس از مدت گذار افتاد بر ما کاروانے را

بیا ساقی نواے مرغ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد

کشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صداے آبشاراں از فراز کوہسار آمد

سرت گردم تو ہم قانون پیشیں سازدہ ساقی
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد

کنار از زاہداں برگیروبے باکانہ ساغر کش
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد

بہ مشتاقاں حدیث خواجہ بدر و حنین آور
تصرف ہاے پنہانش بچشمم آشکار آمد

دگر شاخ خلیل از خون ما نم ناک می گرد
بیازار محبت نقد ما کامل عیار آمد

سر خاک شہیدے برگہاے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہال ملت ما سازگار آمد

بیا تا گل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

دنیائے اسلام

Share
کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
خشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز

ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور نیاز

لے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارس
وہ مےء سرکش حرارت جس کی ہے مینا گداز

حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

ہوگیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

گفت رومی ہر بناے کہنہ کآباداں کنند
می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگر

مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
مور بے پر! حاجتے پیش سلیمانے مبر

ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں ، مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استور
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

تو نے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر، دیکھ

کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار
ہر زماں پیش نظر، 'لایخلف المیعاد' دار


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

سرمایہ و محنت

Share
بندئہ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، ہے یہ پیام کائنات

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

دست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات

ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات

نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات

کٹ مرا ناداں خیالی دیوتائوں کے لیے
سکرکی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیات

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی اندازہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ہمت عالی تو دریا بھی نہیں کرتی قبول
غنچہ ساں غافل ترے دامن میں شبنم کب تلک

نغمہ بیداری جمہور ہے سامان عیش
قصہ خواب آور اسکندر و جم کب تلک

آفتاب تازہ پیدا بطن گیتی سے ہوا
آسمان! ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

توڑ ڈالیں فطرت انساں نے زنجیریں تمام
دوری جنت سے روتی چشم آدم کب تلک

باغبان چارہ فرما سے یہ کہتی ہے بہار
زخم گل کے واسطے تدبیر مرہم کب تلک

کرمک ناداں! طواف شمع سے آزاد ہو
اپنی فطرت کے تجلی زار میں آباد ہو


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

سلطنت

Share
آبتائوں تجھ کو رمز آیۂ 'ان الملوک'
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری

جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز
دیکھتی ہے حلقۂ گردن میں ساز دلبری

خون اسرائیل آجاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسی طلسم سامری

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بتان آزری

از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن
تا تراشی خواجہ ے از برہمن کافر تری

ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

دیو استبداد جمہوری قبا میں پاے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طب مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری

گرمی گفتار اعضائے مجالس، الاماں!
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری

اس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں! قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

زندگی

Share
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے، ضمیر کن فکاں ہے زندگی

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بے کراں ہے زندگی

آشکارا ہے یہ اپنی قوت تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی

خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنہار تو

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

پھونک ڈالے یہ زمین و آسمان مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

زندگی کی قوت پنہاں کو کر دے آشکار
تا یہ چنگاری فروغ جاوداں پیدا کرے

خاک مشرق پر چمک جائے مثال آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے

سوئے گردوں نالہ شب گیر کا بھیجے سفیر
رات کے تارں میں اپنے رازداں پیدا کرے

یہ گھڑی محشر کی ہے ، تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے


شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال
کتاب کا نام : بانگ درا
Related Posts with Thumbnails

خضر راہ

Share
شاعر

ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر
گوشہ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب

شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب

جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب

رات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
انجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتاب

دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیک جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شباب

کہہ رہا ہے مجھ سے، اے جویائے اسرار ازل!
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجاب

دل میں یہ سن کر بپا ہنگامہ محشر ہوا
میں شہید جستجو تھا، یوں سخن گستر ہوا

اے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموش

'کشتی مسکین، و 'جان پاک' و 'دیوار یتیم،
علم موسی بھی ہے تیرے سامنے حیرت فروش

چھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا دوش

زندگی کا راز کیا ہے، سلطنت کیا چیز ہے
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش

ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہ دیرینہ چاک
نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پیرایہ پوش

گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم نائونوش

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش

آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!

Related Posts with Thumbnails